9 نومبر 2012 - 20:30

افغانستان کے صدر حامد کرزئی اس وقت ہندوستان کے دورہ پر ہیں حامد کرزئی انڈونیشیا میں منعقدہ عالمی جمہوریت فورم میں شرکت کے بعد گزشتہ روز ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی پہنچے ہیں جہاں وہ ہندوستان کے اعلی حکام سے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے ۔

ابنا: افغان صدر اس ایک روزہ دورے میں معدنیات اور نوجوانوں کے امور سمیت افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری جیسے موضوعات پر ہندوستانی حکام سے مختلف سمجھوتوں پر دستخط کریں گے ۔

حامد کرزئی نے اس سے پہلے بھی اپنے دورہ ہندوستان کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعاون کے اسٹرٹیجک معاہدے پر دستخط کئے تھے یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ کار اس دورہ کو افغانستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کا ایک نیا موڑ قرار دے رہے ہیں ۔

طالبان کے سقوط کے بعد سن دوہزار ایک میں جب افغانستان کے بحران کے حل کے بارے میں مختلف بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئیں  تو ہندوستان نے ان میں سرگرم کردار ادا کیا ۔ 2002 کے ٹوکیو اجلاس میں بھی ہندوستان نے افغانستان کے لئے ایک سو میلین ڈالر کی امداد اور دس لاکھ ٹن مالیت کی گندم دینے کااعلان کیا ۔ حامد کرزئی کے فروری 2002 کے دورہ ہندوستان کے موقع پر بھی حکومت ہندوستان نے افغانستان کو دس میلین ڈالر کی مدد دی تھی۔

ہندوستان کی طرف سے افغانستان کی فضائیہ ، محکمہ تعلیم اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتا ہے ۔

افغان صدر کے حالیہ دورہ افغانستان کا کئی پہلوؤں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندوستان افغانستان میں طالبان کے سیاسی میدان میں دوبارہ سرگرم ہونے پر پریشان ہے کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے افغانستان میں ہندوستان کا اثر و نفوذ کم ہوجائیگا دوسرا اہم مسئلہ ہند افغان تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا ردعمل ہے ۔ پاکستان کافی عرصے سے افغانستان میں اپنا اثر و نفوذ رکھتا ہے اور وہ افغانستان کو اپنی اسٹرٹیجک ڈیبتھ اور اپنا قریبی حلیف سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں ہندوستانی کے اثر و نفوذ میں اضافے پر اسکی تشویش ایک  فطری عمل ہے ۔

افغان صدر حامد کرزی کابل کے دہلی اور اسلام آباد سے تعلقات کے حوالے سے ایک توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تا کہ ان دو ملکوں کے باہمی اختلافات افغانستان کے مفادات کے لئے مضر ثابت نہ ہوں بہرحال سیاسی ماہرین کی رائے کے مطابق افغانستان کے ہندوستان سمیت دوسرے علاقائی ممالک سے اچھے تعلقات اس ملک میں امن و استحکام کے قیام میں ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ افغانستان کے بحران کا پائیدار حل داخلی اور علاقائی ممالک کے تعاون میں مضمر ہے ۔
.....
/169